سا[4]

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - سائیدن سے امر حاضر، اسم کے آخر میں اسم فاعل کے معنی دیتا ہے جیسے ملنے والا، رگڑنے والا، لگانے والا، چمکانے والا، کھینچنے والا وغیر۔  سر جبہ سا کو مرے اگر ترے نقش پا کی تلاش ہے ترے نقش پا کو اسی طرح سر جبہ سا کی تلاش ہے      ( ١٩٥٠ء، ترانۂ وحشت، ١٣٩ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'سائیدن' سے صیغہ امر ہے۔ جوکہ تراکیب میں بطور لاحقۂ صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٩٥ء سے "دیوان عظیم دل آبادی" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: سائِیدَن